تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جو کسی ایک قوم، نسل یا خطہ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہدایت، اخلاص اور حق طلبی کی علامت بن جاتی ہیں۔ حضرت سلمان فارسی علیہ السلام انہی عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جو انسان اخلاص، صبر اور استقامت کے ساتھ حق کی تلاش میں نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنی خاص ہدایت اور قرب سے نوازتا ہے۔ حضرت سلمان علیہ السلام کی شخصیت علم و معرفت، زہد و تقویٰ، وفاداری، ولایت اور روحانیت کا حسین امتزاج ہے۔
حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف جستجوئے حق ہے۔ آپ نے محض آبائی روایت کی بنیاد پر اپنے مذہب کو قبول نہیں کیا، بلکہ حق کی تلاش میں ہر قربانی برداشت کی۔ خاندان کی مخالفت، غلامی، غربت، اجنبیت اور مسلسل سفر بھی آپ کے عزم کو متزلزل نہ کر سکے۔ آپ کا یہ سفر ہر طالبِ حق کے لئے ایک دائمی درس ہے کہ حقیقت تک پہنچنے کے لئے تعصب نہیں بلکہ اخلاص، تحقیق اور استقامت درکار ہوتی ہے۔
ایران کے علاقہ اصفہان سے شروع ہونے والا یہ روحانی سفر شام، موصل اور عموریہ سے گزرتا ہوا سرزمینِ حجاز تک پہنچا۔ یہ محض جغرافیائی سفر نہیں تھا بلکہ روح کی تکمیل اور معرفتِ الٰہی کی منزلوں کی طرف ایک مسلسل پیش قدمی تھی۔ ہر راہب نے آپ کو اگلے راہب کی طرف رہنمائی کی، یہاں تک کہ آخری راہب نے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی بشارت دی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سلمان فارسی علیہ السلام کی پوری زندگی کا مقصد واضح ہو گیا۔
مدینہ منورہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے بعد حضرت سلمان فارسی علیہ السلام نے وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں جن کا ذکر سابقہ آسمانی کتب و صحف میں ہو چکا تھا؛ آپ صدقہ قبول نہیں کرتے تھے، ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت موجود تھی۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر حضرت سلمان فارسی علیہ السلام بے اختیار رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں گر پڑے اور شرفِ اسلام سے مشرف ہوئے۔ یہ محض قبولِ اسلام کا واقعہ نہیں بلکہ ایک صادق سالک کی اپنی منزلِ مقصود تک رسائی کی داستان ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد بھی حضرت سلمان فارسی علیہ السلام غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہے، لیکن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آزادی کا انتظام فرمایا۔ اس واقعہ سے اسلام کا وہ عظیم پیغام آشکار ہوتا ہے کہ انسان کو ہر قسم کی جسمانی، فکری اور روحانی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے۔
غزوۂ خندق میں حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی بصیرت نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ جب دشمن نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو آپ نے ایرانی جنگی حکمتِ عملی کے مطابق شہر کے گرد خندق کھودنے کی تجویز پیش کی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول فرمایا۔ اس سے اسلام کی آفاقیت واضح ہوتی ہے کہ وہ مفید علم اور تجربے کو خواہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو، قبول کرتا ہے۔
اسی موقع پر مہاجرین اور انصار کے درمیان حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کو اپنی جماعت سے منسوب کرنے کا شرف حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "سلمان منا أهل البيت" یعنی "سلمان ہم اہلِ بیت میں سے ہیں۔"
یہ اعلان صرف ایک فضیلت نہیں بلکہ حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کے روحانی مقام، اخلاص، ایمان اور اہلِ بیت علیہم السلام سے غیر معمولی قرب کا اظہار ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں فضیلت کا معیار نسل، زبان اور قومیت نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ اور وفاداری ہے۔
شیعہ مکتبِ فکر میں حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے خاص اصحاب اور مخلص ترین شیعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد بھی آپ نے ہر حال میں ولایتِ علیؑ کا ساتھ دیا اور دنیاوی مفادات پر حق کو ترجیح دی۔ اسی لئے ائمۂ اہل بیت علیہم السلام نے آپ کو ایمان، معرفت اور وفاداری کا اعلیٰ نمونہ قرار دیا۔
حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی گورنری بھی اسلامی طرزِ حکمرانی کا مثالی نمونہ تھی۔ مدائن جیسے عظیم شہر کے حاکم ہونے کے باوجود آپ نے نہ شاہانہ رہائش اختیار کی اور نہ بیت المال کو ذاتی منفعت کے لئے استعمال کیا۔ آپ اپنی ضروریات محنت سے پوری کرتے اور سرکاری وسائل عوام کی خدمت پر صرف کرتے تھے۔ آپ کی سادگی، عدل اور عوام دوستی آج بھی اسلامی حکمرانی کے لئے ایک روشن مثال ہے۔
حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی شخصیت معرفتِ الٰہی کی بلند ترین منزلوں کی نمائندہ ہے۔ آپ نے علم کو عمل سے، عمل کو اخلاص سے اور اخلاص کو ولایت سے جوڑ کر انسانِ کامل کا نمونہ پیش کیا۔ آپ کے نزدیک زہد کا مطلب دنیا کو ترک کرنا نہیں بلکہ دنیا کی محبت کو دل سے نکال دینا تھا۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے حضرت سلمان علیہ السلام کو علم کا بے کنار سمندر، اولین و آخرین کے علوم کا حامل اور لقمان حکیم کی مانند دانا قرار دیا۔ یہ تعارف اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت سلمان فارسی علیہ السلام نے صرف ظاہری اسلام نہیں بلکہ معرفتِ باطنی کے اعلیٰ مدارج بھی طے کئے تھے۔
حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی وفات بھی ان کی پوری زندگی کی طرح نورانی تھی۔ روایات کے مطابق آپ کو اپنے وقتِ وفات کا علم تھا۔ آپ نے اپنے آپ کو خوشبو سے معطر کیا اور اپنے رب سے ملاقات کے لئے آمادہ ہو گئے۔ روایات کے مطابق امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام مدینہ سے مدائن تشریف لائے، آپ کی تجہیز و تکفین اور نمازِ جنازہ ادا کی، اور تدفین کے فرائض انجام دیے۔ یہ واقعہ اہلِ بیت علیہم السلام اور ان کے مخلص اصحاب کے درمیان روحانی تعلق کی عظیم مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
اگرچہ حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی تاریخ وفات کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن بعض مشہور مورخین کے مطابق 8 صفر سن 35 ہجری کو مدائن میں آپ کی وفات ہوئی۔
اگرچہ حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، تاہم ان کے روحانی مقام، علمی عظمت، زہد، تقویٰ اور وفاداری پر تمام مسلمان متفق ہیں۔
دور حاضر میں حضرت سلمان فارسی علیہ السلام کی سیرت یہ پیغام دیتی ہے کہ حق کی تلاش، علم کی جستجو، اخلاص، عدل، خدمتِ خلق، ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستگی اور دنیا سے بے رغبتی ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی زندہ تفسیر ہے کہ ایمان کی بنیاد رنگ، نسل، زبان یا قومیت نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور محبتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اہلِ بیت علیہم السلام ہے۔
حضرت سلمان فارسی علیہ السلام رہتی دنیا تک حق کے متلاشیوں، اہلِ علم، اہلِ عرفان اور اہلِ ولایت کے لئے مشعلِ راہ رہیں گے۔ ان کی سیرت ہر دور میں انسان کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ خدا کی رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے ایسی عزت عطا فرماتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اپنے اہلِ بیت سے نسبت عطا فرماتے ہیں۔
سلام ہو سلمانِ محمدی پر؛ اس مردِ حق پر جس نے اپنی پوری زندگی حق کی تلاش، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت، ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی وفاداری اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے وقف کر دی۔









آپ کا تبصرہ